44

سوال ہی پیدا نہیں ہوتا وزیراعظم عمران خان استعفیٰ دیں ، شیخ رشید احمد

اسلام آباد : وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ہے کہ وزیراعظم عمران خان استعفیٰ دیں ۔ تفصیلات کے مطابق اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وزیراعظم نے خط کے مندرجات کو کابینہ کے سامنے رکھا ہے ، کابینہ نے وزیراعظم کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کیا ، غیر ملکی سرمایہ والی اپوزیشن کو کوئی معاف نہیں کرے گا ، تحادی جو چھوڑ کر گئے ہیں اس پر بھی تبصرہ کریں گے، 2 دن کی بات ہے ، عمران خان آخری گیند تک لڑے گا ، جلد ہی اسمبلی کا بھی ان کیمرا اجلاس بلایا جائے گا اور وزیراعظم عمران خان آج قوم سےخطاب کریں گے ، وزیراعظم عمران خان قوم سے خطاب میں موجودہ سیاسی صورتحال پر گفتگو کریں گے ، انتظار کریں سب کچھ سامنے آجائے گا ، وزیراعظم عمران خان ڈٹ کر کھڑے ہیں ، وزیراعظم عمران خان آخری گیند تک کھیلیں گے ، 3 تاریخ کو تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ ہے۔

قبل ازیں اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے دھمکی آمیز خط اتحادی جماعتوں اور سینئر صحافیوں کو دکھانے کا اعلان کیا تھا ، انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں خط کو ڈرامہ قرار دے رہی ہیں ، آج سینئر صحافیوں کو خط دکھاؤں گا ، خط میں واضح ہے کہ یہ بیرونی سازش ہے، خط اتحادی جماعت کے ایک ایک رکن کو بھی دکھاؤں گا ، اتحادیوں کو خط دکھاؤں گا کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ انجانے میں بیرونی سازش کا حصہ بن جائیں ، خط دکھانے کا مقصد ہی یہ ہوگا کہ یہ اس بیرونی سازش سے بچ جائیں ، لوگوں نے جو فیصلہ کرنا ہے کرلیں وزیراعظم نے کہا کہ سیاسی بحران تو ملکوں میں آتے رہتے ہیں ، عدم اعتماد کی تحریک آئینی طریقہ ہے لیکن یہ عدم اعتماد کی تحریک پاکستان کے خلاف ساز ش ہے ، عدم اعتماد کی یہ سازش باہر سے کی گئی ، ہم نے قربانیاں دیں لیکن بجائے ہمدردی کے ہم پر تنقید کی گئی ۔
انہوں نے کہا کہ سڑکوں کی جال بچھا نے کے منصوبوں میں کرپشن ہوتی رہی ، کرپشن ملک کونقصان پہنچاتی ہے اور اس کی جڑیں کمزور کرتی ہے ، ٹیکنالوجی نے لوگوں کی زندگی آسان بنا دی ہے ، ای پاسپورٹ سے لوگوں کو آسانی ہوگی ، ملک میں ترسیلات زر میں اضافہ ہوا ہے ، اوورسیز پاکستانیوں کا ملکی معیشت میں اہم کردار ہے لیکن اوورسیز پاکستانی ائیرپورٹس پر مشکلات کا سامنا کرتے ہیں ۔ عمران خان نے کہا کہ ہم نے ملکی پیداوار کو بڑھانے کی کوشش کی ، سیاحت کو تو ابھی شعبے کا درجہ دیا گیا ہمیں یہ کام پہلے کرنا چاہیے تھا ، سیاحت پر ماضی میں کبھی توجہ نہیں دی گئی ، سیاحت کے فروغ کےلیے ہمیں مزید اقدامات کرنے ہوں گے ، سیاحوں کی آسانی کے لیے بھی مزید کام کرنے کی ضرورت ہے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں