38

خان صاحب بلیک میلرز سے بلیک میل ہونے میں مزا آرہا ہے؟

اسلام آباد : عامر لیاقت حسین نے عثمان بزدار کے مستعفی ہونے پر وزیر اعظم سے کہا ہے کہ خان صاحب بلیک میلرز سے بلیک میل ہونے میں مزا آرہا ہے؟۔ تفصیلات کے مطابق عثمان بزدار کی جانب سے اپنا استعفا وزیر اعظم کو پیش کر دیے جانے اور پرویز الٰہی کو وزارت اعلٰی پنجاب کیلئے نامزد کر دیے جانے پر پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی عامر لیاقت حسین کی جانب سے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ردعمل دیا گیا ہے۔

عامر لیاقت حسین نے کہا کہ استعفی لینا ہی تھا تو عثمان بزدار کو ذلیل کرنے کی کیا ضرورت تھی؟ آخر وہ پارٹی کے ہیں وزیراعظم نے پرویز الہی کے سامنے عثمان بوزدار کو مقصود چپڑاسی کی طرح بلوا کر پرویز الہی کے سامنے استعفی لیا تاکہ ان کی انا کو تسکین پہنچے ۔

عثمان بزدار جیسے وفادار شخص سے ذلت کے ساتھ استعفی لیا اور پرویز الہی کی انا کو تسکین پہنچا کرآپ نے پوری پی ٹی آئی کو گھبرانے پر مجبور کردیا ہے، خان صاحب پارٹی میں دوبارہ شامل ہوں!! میں اس خان کو جانتا تھا جو فائٹر اور ٹائیگر تھا وزیراعلی کو جلانے والا لائٹر نہیں تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ خان صاحب آپ سے آخری سوال ہے بلیک میلرز سے بلیک میل ہونے میں مزا آرہا ہے؟ اتحادیوں کے آگے گھٹنے ٹیکنے والے عمران خان کوجوائن نہیں کیاتھا! کیا حرج ہے ہم اپوزیشن میں بیٹھ جائیں! آپ وزارت اعلی دے کر لوگوں کو خریدیں تو ٹھیک اوراراکین ناراضگی میں چلے جائیں تو حرام۔
دوسری جانب جیو نیوز کے مطابق مسلم لیگ ق کے مرکزی رہنماء اور وفاقی وزیر چودھری مونس الٰہی نے کہا ہے کہ وزیراعظم نے چودھری پرویز الٰہی کو وزیراعلیٰ پنجاب کا امیدوار نامزد کردیا ہے،وزیراعظم اور پرویز الٰہی کی ملاقات کے دوران عثمان بزدار سے استعفا لیا گیا۔ اسی طرح جیو نیوز کے مطابق ترجمان مسلم لیگ (ق) نے وفاقی وزیر طارق بشیر چیمہ کے وزارت سے مستعفی ہونے کی تصدیق کی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ چودھری شجاعت نے طارق بشیر چیمہ کو وزارت کے عہدے سے مستعفی ہونے کی اجازت دی، جس پر طارق بشیر چیمہ نے عہدے سے استعفا دے دیا ہے۔ یاد رہے طارق بشیر چیمہ مسلم لیگ ق کے سینئر رہنماء ہیں اور بہاولپوراین اے 172 سے مسلم لیگ ق کے رکن قومی اسمبلی ہیں۔ طارق بشیر چیمہ وفاقی حکومت کی ساڑھے تین سالوں کی کارکردگی سے سخت نالاں ہیں۔
طارق بشیر چیمہ کا کہنا ہے کہ میں نے وفاقی کابینہ چھوڑ دی ہے، اب عمران خان کے خلاف ووٹ دوں گا، کچھ دیر میں تفصیلی فیصلہ جاری کروں گا۔ دوسری جانب وزیراعظم عمران خان اور اسپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الٰہی کے درمیان ہونے والی ملاقات پر مسلم لیگ ق کے سربراہ چودھری شجاعت حسین نے کہا کہ چودھری پرویزالٰہی فیصلہ کرنے نہیں وزیراعظم کی بات سننے گئے ہیں، وزیراعظم سے ملاقات کے بعد مسلم لیگ ق اتحادی جماعتوں کو ساری صورتحال سے آگاہ کیا جائے گا۔
جو بھی فیصلہ ہوگا اتحادیوں کی مشاورت سے کریں گے۔ واضح رہے وزیراعظم عمران خان کے خلاف قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد پیش کردی گئی ہے، تحریک عدم اعتماد شہباز شریف نے پیش کی، تحریک عدم اعتماد کے حق میں 161ارکان نے حمایت کی۔ جیو نیوز کے مطابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف قومی اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد پیش کردی گئی ہے، اجلاس میں ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری نے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کو تحریک پیش کرنے کی ہدایت کی ، جس پر اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے تحریک عدم اعتماد پیش کی۔
تحریک عدم اعتماد کے حق میں161 ارکان نے حمایت کی، جس پر وزیراعظم عمران خان کیخلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کرنے کی باقاعدہ اجازت دی گئی۔ تحریک عدم اعتماد پیش ہونے پر اس پر باقاعدہ بحث ہوگی ۔اسپیکر قومی اسمبلی نے 31 مارچ بروز جمعرات 4 بجے تک ایوان کی کاروائی ملتوی کردی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں