44

سپریم کورٹ کے صدارتی ریفرنس پر معانت کیلئے تمام صوبوں کو نوٹسز جاری

اسلام آباد : سپریم کورٹ آف پاکستان نے صدارتی ریفرنس پر معانت کیلئے تمام صوبوں کو نوٹس جاری کر دیئے، چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ رکن کی جانب سے ڈالا ووٹ شمار نہ ہونا ووٹ کی توہین ہوگی، اصل معاملہ نااہلی کی مدت کا ہے، آرٹیکل 63 اے کی روح کو نظر انداز نہیں کرسکتے، جتنا مرضی غصہ ہو پارٹی کے ساتھ کھڑے رہنا چاہیے، ایسے معاملات پارلیمنٹ میں حل ہونے چاہئیں۔
آج جمعرات کو سپریم کورٹ میں آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے لیے دائر صدارتی ریفرنس پر چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 5 رکنی لارجر بینچ نے سماعت کی۔ جسٹس اعجازالاحسن، جسٹس منیب اختر، جسٹس مظہرعالم میاں خیل اور جسٹس جمال خان مندوخیل بھی بینچ کا حصہ ہیں۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ ووٹ ڈال کر شمار نہ کیا جانا توہین آمیز ہے، آرٹیکل 63 اے میں نااہلی کا پورا نظام دیا گیا ہے، اصل سوال اب صرف نااہلی کی مدت کا ہے۔

اٹارنی جنرل نے تسلیم کیا کہ ووٹ دینے کے بغیر 63 اے نہیں لگ سکتی، لیکن ووٹ کے بعد رکن کے ساتھ کیا ہوگا یہ دیکھنا ضروری ہے۔ جس پر چیف جسٹس سپریم کورٹ نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ 63 اے میں ایک طریقہ کار موجود ہے، آرٹیکل 63 اے کی روح کو نظرانداز نہیں کرسکتے، عدالت کا کام خالی جگہ کو پر کرنا نہیں، ریفرنس کی بجائے اس طرح کے معاملات کو پارلیمنٹ میں حل ہونا چاہیے۔
جسٹس منیب اختر نے کہا کہ آئین میں پارٹی سربراہ نہیں پارلیمانی پارٹی کو بااختیار بنایا ہے، پارٹی کی مجموعی رائے انفرادی رائے سے بالاتر ہوتی ہے، سیاسی نظام کے استحکام کیلئے اجتماعی رائے ضروری ہوتی ہے، پارٹی پالیسی سے انحراف روکنے کیلئے آرٹیکل 63 اے شامل کیا گیا۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ پارٹی پالیسی سے انحراف پر تاحیات نااہلی ہونی چاہیے۔
جسٹس منیب اختر نے کہا کہ ایک تشریح تو یہ ہے انحراف کرنے والے کا ووٹ شمار نہ ہو۔ جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ کیا ڈی سیٹ ہونے تک ووٹ شمار ہو سکتا ہے، اٹھارہویں ترمیم میں ووٹ شمار نہ کرنے کا کہیں ذکر نہیں۔جسٹس مظہر عالم نے کہا کہ کسی کو ووٹ ڈالنے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا۔ نیوز ایجنسی کے مطابق اٹارنی جنرل نے کہا کہ یہ ضمیر کی آواز نہیں کہ اپوزیشن کے ساتھ مل جائیں۔
جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ بلوچستان میں اپنے ہی لوگوں نے عدم اعتماد کیا اور حکومت بدل گئی۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ بلوچستان میں دونوں گٴْروپ باپ پارٹی کے دعویدار تھے، سب سے زیادہ باضمیر تو مستعفی ہونے والا ہوتا ہے، پارٹی ٹکٹ پر اسمبلی آنے والا پارٹی ڈسپلن کا پابند ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آرٹیکل 63 اے کی روح کو نظر انداز نہیں کرسکتے، عدالت کا کام خالی جگہ پر کرنا نہیں، ایسے معاملات ریفرنس کی بجائے پارلیمنٹ میں حل ہونے چاہیں، عدالت نے ارٹیکل کو 55 کو بھی مدنظر رکھنا ہے۔
چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ منحرف اراکین کی نااہلی کتنی ہوتی ہے، نااہلی کا اطلاق کب سے شروع ہو گا ہمیں اس پر دلائل دیں کہ ہر معاملہ پارلیمنٹ خود کیوں نہ طے کرے۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہر رکن ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنا لے تو نظام کیسے چلے گا۔جسٹس مظہر عالم نے کہا کہ آرٹیکل 63(4) کے تحت ممبر شپ ختم ہونا نااہلی ہے، آرٹیکل 63(4) بہت واضح ہے۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ اصل سوال ہی آرٹیکل 63(4) واضح نہ ہونے کا ہے، خلاف آئین انحراف کرنے والے کی تعریف نہیں کی جاسکتی، جو آئین میں نہیں لکھا اسے زبردستی نہیں پڑھا جاسکتا، آرٹیکل 62 ون ایف کہتا ہے رکن اسمبلی کو ایماندار اور امین ہونا چاہیے، کیا پارٹی سے انحراف کرنے پر انعام ملنا چاہیی کیاخیانت کرنے والے امین ہو سکتے ہیں جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ آرٹیکل 95 کے تحت ہر رکن اسمبلی کو ووٹ ڈالنے کا حق ہے، ووٹ اگرڈل سکتا ہے تو شمار بھی ہو سکتا ہے، اگر حکومت کے پاس جواب ہے تو عدالت سے سوال کیوں پوچھ رہی ہے، اگر اس نقطہ سے متفق ہیں تو اس سوال کو واپس لے لیں۔
اٹارنی جنرل نے کہا کہ ووٹ پارٹی کے خلاف ڈالے بغیر آرٹیکل63 اے قابل عمل نہیں ہو گا۔جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ الیکشن کمیشن پارٹی سربراہ کی ڈیکلریشن پر کیا انکوائری کرے گا، کیا الیکشن کمیشن تعین کریگا کہ پارٹی سے انحراف درست ہے کہ نہیں، کیا الیکشن کمیشن کا کام صرف یہ دیکھنا ہوگا کی طریقہ کار پر عمل ہوایا نہیں۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ پارٹی پالیسی سے انحراف درست نہیں ہو سکتا۔
قبل ازیں سماعت کے آغاز میں چیف جسٹس نے کہا کہ آج بھی گزشتہ سماعت والا ہی مسئلہ ہے، مناسب ہو گا کہ وکلا اور دیگر افراد باہر چلے جائیں، جو کھڑے ہیں وہ لاؤنج میں سماعت سن لیں، اس سے پہلے کہ عدالت کو سختی سے باہرنکالنا پڑے۔سماعت کے دوران چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اٹارنی جنرل صاحب پہلے آپ کو سنیں گے، ہم نے سیاسی جماعتوں کو بھی نوٹس جاری کر رکھے ہیں، کیا آپ سمجھتے ہیں ہم صوبوں کو بھی نوٹس جاری کریں ۔
اٹارنی جنرل نے کہا کہ سپریم کورٹ بار کی درخواست میں اسپیکر قومی اسمبلی بھی فریق ہیں، عدالت چاہیے تو صوبوں کو نوٹس جاری کرسکتی ہے، صوبوں میں موجود سیاسی جماعتیں پہلے ہی کیس کا حصہ ہیں،اٹارنی جنرل نے موقف اختیار کیا کہ میرے خیال میں صوبوں کا کردار نہیں، ہر عدالت کی صوابدید ہے، وزارت اعلیٰ کے خلاف عدم اعتماد کی تحریکیں جمع نہیں ہیں۔
سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے معاونت کے لیے تمام صوبوں کو نوٹس جاری کر دیے۔سماعت کے دوران رضا ربانی نے کہا کہ میری درخواست پر اعتراض عائد کر دیا گیا۔چیف جسٹس نے کہا کہ رضا ربانی صاحب ہم دیکھ لیتے ہیں، آپ کو بھی سنیں گے، پہلے جلسے کے خلاف کیس سن لیتے ہیں۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ میں نے متعلق حکام کو جلسے سے متعلق عدالتی احکامات بارے آگاہ کیا، جے یو آئی (ف) اور تحریک انصاف نے جلسے کیلئے درخواستیں دیں، جے یو آئی (ف) نے درخواست میں دھرنے کا کہا ہے، جے یو آئی (ف) کہتی ہے کشمیر ہائی وے پر دھرنا دیں گے، قانون کے مطابق ووٹنگ کے دوران دھرنا نہیں دیا جا سکتا، قانون کہتا ہے 48 گھنٹے پہلے جگہ خالی کرنی ہے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ اٹارنی جنرل صاحب! ہم نے آئین اور قانون کو دیکھنا ہے، ہم انتظامی امور میں مداخلت نہیں کر سکتے۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ سپریم کورٹ ہدایت دے کہ ماحول پرامن رہے۔جے یو آئی (ف) کے وکیل کامران مرتضیٰ نے کہا کہ درخواست میں ہم نے کہا ہے کہ ہم پرامن رہیں گے، درخواست کا فیصلہ انتظامیہ کو کو کرنے دیں۔چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ آپ سے ڈرتے ہیں، جس پر کمرہ عدالت میں مسکراہٹیں پھیل گئیں۔
اٹارنی جنرل نے کہا کہ جے یو آئی (ف) اور پی آئی ٹی نے ضلعی انتظامیہ سے ملاقات کی، کشمیر ہائی وے اہم سڑک ہے جو راستہ ائیرپورٹ کو جاتا ہے، کشمیر ہائی وے سے گزر کر ہی تمام جماعتوں کے کارکنان اسلام آباد آتے ہیں، قانون کسی کو ووٹنگ سے 48گھنٹے پہلے مہم ختم کرنے کا پابند کرتا ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت چاہے گی کہ سیاسی جماعتیں آئین کے دفاع میں کھڑی ہوں گی، معلوم نہیں عدم اعتماد پر ووٹنگ کب ہو گی۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ جمہوری عمل کا مقصد روزمرہ امور کو متاثر کرنا نہیں ہوتا۔وکیل جے یو آئی (ف) کامران مرتضیٰ نے کہا کہ درخواست میں واضح کیا ہے کہ قانون پر عمل کریں گے، ہمارا جلسہ اور دھرنا پرامن ہو گا۔چیف جسٹس نے کہا کہ آپ سے حکومت والے ڈرتے ہیں۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ جے یو آئی (ف) پر امن رہے تو مسئلہ ہی ختم ہو جائے گا۔ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ ہم مطمئن ہیں۔
سماعت کے دوران عدالت نے ڈی سی اسلام آباد اور آئی جی اسلام آباد کو کمرہ عدالت سے جانے کی ہدایت دے دی۔عدالت کی جانب سے کہا گیا کہ ایڈوکیٹ جنرل سندھ نے بتایا صوبائی حکومت کا سندھ ہاؤس واقعہ پر پولیس نے بیان ریکارڈ کر دیا، آئی جی اسلام آباد سندھ حکومت کے موقف پر قانون کے مطابق کارروائی کرے، اٹارنی جنرل نے بتایا جے یو آئی ف نے درخواست دی، جے یو آئی (ف) نے کہا وہ کشمیر ہائی وے ہر جلسہ کریں گے، بتایا گیا جے یو آئی (ف) نے جلسے کے بعد کشمیر ہائی وے پر دھرنا کا اعلان کر رکھا ہے، جے یو آئی (ف) کے وکیل نے کہا دھرنا پرامن ہو گا۔
عدالت نے کہا کہ جے یو آئی (ف) قانون کے مطابق دھرنے مظاہرے کرے۔سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے حکومت کی ٹائیگر فورس اور ڈنڈا بردار فورس پر تشویش کا اظہار کیا۔جسٹس مظہر عالم میاں خیل نے کہا کہ حکومت کی جانب سے ٹائیگر فورس، ڈنڈا بردار فورس بدقسمتی ہے۔ایڈوکیٹ جنرل سندھ نے کہا کہ آئی جی اسلام آباد سے بات ہو گئی ہے، پولیس کے اقدامات سے مطمئن ہیں۔
چیف جسٹس نے کہا کہ اچھی بات یہ ہے کہ پولیس قانون کے مطابق کاروائی کررہی ہے، صوبائی حکومتیں بھی تحریری طور پر اپنے جوابات جمع کروائیں، تحریری جوابات آنے پر صدارتی ریفرنس پر سماعت میں آسانی ہو گی۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ سندھ ہاؤس میں حکومتی اراکین نے وزیراعظم کے خلاف ووٹ دینے کا کہا۔سماعت کے دوران اٹارنی جنرل نے 1992 کے عدالتی فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ نے کہا ضمیر تنگ کررہا ہے تو مستعفی ہو جائیں۔
چیف جسٹس نے کہا کہ 1992 کے بعد سے بہت کچھ ہو چکا ہے۔اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ بہت کچھ ہوا لیکن اس انداز میں وفاداریاں تبدیل نہیں ہوئی۔چیف جسٹس نے کہا کہ ہم سندھ ہاؤس واقعہ پر سندھ حکومت کو سنیں گے۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ ریفرنس پر دی گئی رائے پر سختی سے عملدرآمد کی پابندی پر دلائل دوں گا، منحرف اراکین کے ٹی وی پر انٹرویو چلے، سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کے تحت پارٹی منشور پر الیکشن جیتنے والا پارٹی وفاداری تبدیل کرے تو اسے استعفیٰ دینا چاہیے۔
چیف جسٹس نے کہا کہ یہ فیصلہ 1999 کا ہے۔اٹارنی جنرل نے کہا جی بالکل اور اب 2022 ہے، میں آئینی ڈھانچے پر دلائل دوں گا۔جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ آرٹیکل 63 اے میں نااہلی کا ذکر ہے۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ ڈیکلریشن پارٹی سربراہ جاری نہیں کر سکتا، اس کیلئے فورمز موجود ہیں۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ آرٹیکل 63 اے کے تحت اراکین پارٹی ہدایات کے پابند ہیں، وزیراعظم کے الیکشن اور عدم اعتماد پر ارکان پارٹی پالیسی پر ہی چل سکتے ہیں۔
جسٹس جمال خان مندوخیل نے استفسار کیا کہ کیا ارٹیکل 63 اے میں نااہلی کا ذکر ہی اٹارنی جنرل نے کہا کہ آرٹیکل 63 اے کی ہیڈنگ ہی نااہلی سے متعلق ہے، نااہلی کے لیے آئین میں طریقہ کار واضح ہے، آرٹیکل 62، 63 اور 62 اے کو الگ الگ نہیں پڑھا جاسکتا، عدالت پارلیمانی نظام کو آئین کا بنیادی ڈھانچہ قرار دے چکی۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ سیاسی جماعتیں پارٹی نظام کی بنیاد ہیں، عدالت نے ماضی میں پارٹی پالیسی سے انحراف روکنے کی ابزرویشن دی، عدالت نے کہا مسلم لیگ بطور جماعت کام نہ کرتی تو پاکستان نہ بنتا، عدالت نے کہا مسلم لیگ کے ارکان آزادانہ الیکشن لڑتے تو پاکستان نہ بن پاتا، آرٹیکل 62 اور 63 کو آئین میں ایک خاندانی حیثیت حاصل ہے۔
جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ آرٹیل 62 اور 63 ایک ساتھ ہیں، آپ کی ہر دلیل ہے۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ آرٹیکل 19 ہر شخص کو اظہار رائے کی مکمل آزادی دیتا ہے۔جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ آپ دراصل رکن قومی اسمبلی اور عام شہری کے ووٹ کے حق میں فرق کی بات کر رہے ہیں۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ رکن کا ڈالا گیا ووٹ واپس نہیں ہو سکتا، آرٹیکل 17(2) انفرادی ووٹ کی بجائے سیاسی جماعت کی حوصلہ افزائی کرتا ہے، پارلیمانی نظام حکومت میں انفرادی سیاسی جماعت کی کوئی قانون سازی میں اہمیت نہیں ہوتی، پارٹی رجسٹریشن کیس سپریم کورٹ نے اصول طے کیا ہوا ہے کہ انفرادی ووٹ کی کوئی اہمیت نہیں۔
جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ ووٹ کا حق رکن اسمبلی کو ملتا ہے نہ کہ سیاسی جماعت کو۔جسٹس منیب اختر نے کہا کہ سیاسی جماعت کی پالیسی کے خلاف ووٹ درحقیقت سیاسی جماعت کو کمزور کرتی ہے۔چیف جسٹس نے کہا کہ عدالتی فیصلے میں دی گی آبزرویشن بہت اہمیت کی حامل ہے۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ عوام کا مینڈیٹ ایوان میں اجتماعی حثیت میں سامنے آتا ہے، سیاسی جماعتیں عوام کے لیے ایوان میں قانون سازی کرتی ہیں۔
جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ ووٹ کا حق اراکین اسمبلی کو ہے نہ کہ پارٹی اراکین کو۔جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ 4 مواقع پر اراکین اسمبلی کا پارٹی ڈسپلن کی پابندی لازمی ہے، پارٹی ڈسپلن کی پابندی لازمی بنانے کیلئے آرٹیکل 63 اے لایا گیا۔جسٹس منیب اختر نے کہا کہ سیاسی جماعتیں ادارے ہیں، ڈسپلن کی خلاف ورزی سے ادارے کمزور ہوتے ہیں، پارٹی لائن کی پابندی نہ ہو تو سیاسی جماعت تباہ ہو جائے گی۔
اٹارنی جنرل نے کہا کہ سپریم کورٹ ایک فیصلے میں قرار دے چکی سیاسی جماعت کو ایک ادارے کی حیثیت حاصل ہے۔جسٹس منیب اختر نے کیا کہ جمہوری نظام میں سیاسی جماعت کمزور ہو تو جمہوری نظام متاثر ہو جائے گا۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ امریکا میں صدارتی نظام کے باوجود ایک سینیٹر آزاد حیثیت سے نہیں ہوتا، جنرل ضیا نے سیاسی جماعتوں کو تباہ کرنے کی کوشش کی۔
جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ سیاسی جماعت کے ٹکٹ الیکشن جیتنے والے اور آزاد رکن قومی اسمبلی میں کیا تفریق ہے۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ آزاد رکن کو اگر اس جماعت کا منشور قبول نہیں تو اسے پھر استعفیٰ دے دینا چاہیے، 5سال کی اسمبلی میں اڑھائی سال بعد کشتی تبدیل نہیں کی جا سکتی۔چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا آپ ہم سے تاحیات نااہلی مانگ رہے ہیں جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ موجودہ حکومت کی بہت کم اکثریت ہے، ایک جہاز کو ڈبو کر دوسرے میں بیٹھیں گے۔
جسٹس منیب اختر نے کہا کہ آرٹیکل 63 اے اچھے برے کی تمیز کے بغیر پارٹی حکم پر عمل کرنے کی بات کرتا ہے، اصل مسئلہ ہی یہی ہے، اراکین کے ادھر اٴْدھر جانے سے تباہی پھیلے گی۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ 63 اے اور 62 اے کو اکٹھا پڑھا جائے۔جسٹس جمال خان مندوخیل نے استفسار کیا کہ کیا آپ کی دلیل بھی فلور کراسنگ میں ہی جسٹس منیب اختر نے کہا کہ کیا کوئی رکن یہ کہہ سکتا ہے کہ میرا ووٹ پالیسی کے خلاف ہے تاہم اس سے کوئی متاثر نہ ہو جسٹس جمال خان مندوخیل نے استفسار کیا کہ کیا آپ پارٹی سربراہ کو بادشاہ بنانا چاہتے ہیں اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ ہم پارٹی سربراہ کو بادشاہ نہیں بنانا چاہتے لیکن ہم پارٹی سربراہ کو لوٹا بھی نہیں بنانا چاہتے۔
چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا کسی رکن کو پارٹی کے خلاف فیصلے کے اظہار کا حق ہی جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ کیا دوسری کشتی میں چھلانگ لگا کر حکومت گرائی جاسکتی ہی زیادہ تر جمہوری حکومتیں چند ووٹوں کی برتری سے قائم ہوتی ہیں، کیا دوسری کشتی میں جاتے جاتے پہلا جہاز ڈبویا جاسکتا ہی جسٹس منیب اختر نے کہا کہ چھلانگیں لگتی رہیں تو معمول کی قانون سازی بھی نہیں ہوسکتی۔
جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ اب پنڈورا باکس کھل گیا تو میوزیکل چئیر ہی چلتی رہے گی۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ معاملہ صرف 63 اے کی تلوار کا نہیں پورا سسٹم ناکام ہونے کا ہے۔جسٹس منیب اختر نے کہا کہ سب نے اپنی مرضی کی تو سیاسی جماعت ادارہ نہیں ہجوم بن جائے گی، انفرادی شخصیات کو طاقتور بنانے سے ادارے تباہ ہو جاتے ہیں۔ بعد ازاں فاروق ایچ نائیک کی درخواست پر سماعت جمعہ تک ملتوی کردی گئی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں